عبث یہ پانی تڑپتا نہیں ہے دھارے پر

356
Abstract Composition 1954 Serge Poliakoff 1900-1969 Purchased 1961 http://www.tate.org.uk/art/work/T00404

عَبَث یہ پَانی تَڑپتا نَہیں ہے دَھارے پَر
ضَرُور ہوگا کوئی دُوسَرے کِنَارے پَر

ٹَرین گُذری تو پَٹڑی پہ دِیر تَک وہ جِسم
تَڑپتا رِہ گیا، جِیسے ہو جَان آرے پَر

اُسی کے لَفظوں کے مَعنی بَدلتے رِہتے ہو
جو کَائنات چَلاتا ہے اِک اِشارے پَر

قَفَس کی قَید سے نِکلے تو اَب یہ مُشکِل ہے
اُڑان کِس سے مِلے، کَون دے اُدھارے پَر

صُبح جو جَاگ کے دیکھا تو کوئی خَط نہ پیام
عَبَث یہ شَب بھی کَٹی رَتجَگے کے آرِے پَر

مُسافِرَت مِیں ہوں جَب تک ہے ساتھ سَفرِ حَیات
یہی لکھا ہے نا؟ اے دوست! اِس سِتارے پَر

مَنع جو کَام ہیں کرتے ہیں اور سوچَتے ہیں
ضَرُور رحم کرے گا خُدا ہَمارے پَر

پُرانے لوگ خَلُوص و وَفا سے مِلتے تھے
اَب ایسا اِیک بھی مِلتا نہیں نظارے پَر

سَفید صَفحہ لفافے مِیں اُس کو بھیجا ہے
اَب اِس سے بڑھ کے لِکھیں کیا ہَم اَپنے پیارے پَر

پھَلانگ جاؤ! حَدِیں گر پھَلانگ سَکتے ہو
بِنا سَنَد کے جَلیں گے مگر تُمھارے پَر

قَبیلے والو! سُنا ہے کہ یُوں بھی ہوتا ہے
گُناہ اِیک کا لِیکن عَذاب سَارے پَر

بَجا کہ آپ کو مُجھ سے بہت مُحبّت ہے
اے کاش! کٹتا یہ جِیوَن بھی اِس سَہارے پَر

ہَم اَب بھی بَاغ مِیں پھُولوں کو مِلنے جَاتے ہیں
مَگر وہ تِتلِیاں آتی نہیں پُکَارے پَر

تَمام عُمر اُمیدوں کے سائے سائے رَہے
وَگرنہ کاٹتے یہ عُمر کِس سَہارے پَر

عؔلی یہ طائرِ دِل بھی عَجیب وَحشی ہے
جہاں پِہ دِیکھ لِی خَواہِش، وہیں اُتارے پَر

SHARE
Previous articleDedication
Next articleRespect people