ماں کا تحفہ

0
127

ماں کا تحفہ
(مَیں آج بھی اُن کو اَپنی ماں تصوّر کرتا ہوں)

تاریخِ اِشاعَت: جنوری 1996 ء

جریدہ: رابطہ

“کیف” کے “واگ زال” (ریلوے اسٹیشن) پر گاڑی رُک چُکی تھی۔ مَیں اَپنا رَک سیک سنبھالتا اُتر آیا۔

یہ سابق سوویت یونین کی ایک ریاست، یوکرائن، کے دارالحکومت “کیف” کا ریلوے اسٹیشن تھا۔ اجنبی مُلک، اجنبی شہر، نیا اسٹیشن اور ہر طرف نا آشنا چہرے —— اور اِن سب کے دَرمیان ایک اکیلا پاکستانی نوجوان جِس نے ابھی ابھی اِس سرزمین پر قدم رکھّا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ مَیں اپنی منزلِ مقصُود “وِنستی تِیوتِ اَنیسترانی یَزیخَوف” (یعنی اِنسٹیٹیوٹ فا ر فا رن لینگویجز) کا رَاستہ کِس سے معلُوم کروں؟ —— ناگہہ میری نظر ایک محترمہ پر پڑی —— مَیں نے اُن کے قَریب جاکر بہت مُشکِل سے، کُچھ انگریزی مِیں اور کُچھ بین الاقوامی یعنی اِشاروں کی زُبان مِیں اُس اِدارے کا پتہ معلُوم کیا —— اور اُن کی راہنمائی مِیں اِنسٹیٹیوٹ پہنچ گیا۔

یہ اکتوبر ۱۹۹۱ ء کی بات ہے۔ مَیں اُن دِنوں پاکستان سے بذریعہ سڑک یَورپ جانے کے لیے ۴۸۵ اَمریکی ڈالرز کےقلیل زادِسفر کے ساتھ اِیران، آذربائیجان، آرمینیا، رَشیا اور بیلورَشیا کی “بَرف و خاک” چھانتا ہوا اور مَغربی یَورپ پہنچنے کی کوئی صُورت َتلاش کرتا ہوا —— یوکرائن، کے دارالحکومت “کیف” آ پہنچا تھا۔

چَار سَو پچاسی اَمریکی ڈالرز اِیران سے آذربائیجان دَاخِل ہوتے وَقت صِرف سَاڑھے تِین سَو ڈالرز کی صُورت اِختیار کر چُکے تھے۔ اور جب مَیں نے”کیف” میں قَدم رکھّا تو صِرف دو سَو ڈالرز اور چَند ہزار(غالباً ڈھائی ہزار رُوبلز) رِہ گئے تھے۔

مِیرے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا کہ مزید رَقم کہیں سے حاصِل کر سکتا۔ مِیری سوویت یونین مِیں نہ کوئی واقفیت تھی ، نہ کوئی دوست احباب یا رشتہ دَار تھے۔ اِس لیے بیلورَشیا کے دارالحکومت “مِنسک” مِیں اپنے ایک ہَم نام، ہَم وَطن اور ہَم مذہب پاکستانی طالب عِلم “علی” نے اِنتہائی مِہربانی کرتے ہوئے دو رَاتِیں اَپنے کمرے مِیں شَب بَسری کرنے کا موقعہ فراہم کیا —— وہ بھی ہَم وَطن اور ہَم مذہب ہونے کے ناطے—— ! یہ اللّٰہ تبارک و تعالٰی کا خاص فضل تھا۔ اور اسی ہَم وَطن نے مُجھے اس اِدارے مِیں داخلہ لینے کا مَشورہ بھی دیا تھا۔ اور اُس مَشورہ پر عَمل کرتے ہوئے اِس لمحے مَیں ” اِنسٹیٹیوٹ فا ر فا رن لینگویجز ” کے باہر آ کھڑا ہُوا تھا —— لیکن کیا آز مائشیں خَتم ہو گئی تھیں؟ یا اَبھی کُچھ اور اِمتحان باقی تھے؟

اِنسٹیٹیوٹ کی وسیع عمارت مِیں قَدم رَکھّاا تو وہاں کُچھ لوگ “اَپنے اَپنے سے” محسُوس ہوئے۔ یہ عَرب بھائی تھے جو مُختلف ممالک سے تعلّق رَکھتے تھے —— اُن مِیں سے اِیک فلسطینی نوجوان عمر کو میری مُشکلات کا عِلم ہوا تو وہ مُجھے اُس اِدارے کے چند اور پاکستانی طلباء ، علی —— اور ناصر وغیرہ سے متعارف کروانے اپنےساتھ لے کر چَل پڑا۔ جنھوں نے مُجھے “علیک سلیک” کے بعدوہاں کی صُورتِ حال، اَخراجات —— داخلے اور رہائش کی مُشکلات وغیرہ بتائیں —— اور مُجھے اپنی ہمّت ٹوٹتی ہوئی محسُوس ہونے لگی —— لیکن پھر ایک شعاع چَمکی اور وہ دِیکھتے ہی دِیکھتے آفتاب ہو گئی۔ یہ اِیک اَفغان خاتون طالبہ تھیں جو اُردو بول سکتی تھیں—— وہ آگے بڑھیں —— میرا نام اور حال احوال دَریافت کیا اور اَپنے ساتھ اِدارے کی کینٹین مِیں لے گئیں۔ وہاں اُنھوں نے مُجھے یقین دِلایا کہ وہ میری ہر طرح سے مَدد کریں گی —— اِدھر مِیرے پاس رَقم تقریباً تھی ہی نہیں —— چُنانچہ مُجھے فلسطینی بھائی عمر کو دوبارہ تلاش کرکے اُن سے مَدد کی دَرخواست کرنا پڑی، وہ مُجھے لے کر رُوسی زُبان کی اِنچارج کے پاس لے گئے۔ اُن خاتون نے بھی پہلے مُجھے تعلیمی اخراجات وغیرہ کے حوالے سے ڈرایا اور پھر دوسرے دِن حاضر ہونے کی ہدایت کی! اس کے بعد مَیں نے عمر سے اِجازت لی اور اِدارے سے نِکل کر اِیک طرف چَل پڑا —— چُونکہ فی الحال مِیرے پاس کوئی اور ٹھکانہ نہیں تھا لہٰذا مِرے پاس “بَین الاقوامی سرائے” یعنی ریلوے اسٹیشن کی اِنتظار گاہ جانے کے سِوا اور کوئی چارہ کارنہیں تھا۔

مَیں نے حَسبِ سابِق وہ رَات بھی ریلوے اسٹیشن کی اِنتظار گاہ مِیں اَپنا سر رَک سیک پر رکھ کر اونگھتے جاگتے گزار دی۔ اِس لیے کہ اگر مقامی ریلوے اِنتظامیہ کو عِلم ہو جاتا کہ مَیں وہاںصِرف رَات گُزارنے کے لیے آیا ہوں تو پھر میری “جَبری بے دَخلی” کے خاصے رَوشن اِمکانات تھے۔ اِس کا تَجرُبہ مُجھے ماسکو مِیں ہو چُکا تھا۔

دوسرے دِن جب مَیں خراب وخَستہ حَالت مِیں دو بارہ اِنسٹیٹیوٹ پہنچا اور عمر کو تلاش کرکے اُن کے ساتھ اُن ہی خاتون کے پاس پہنچا تو انہوں نے میری حَالت دِیکھتے ہی پہلا سوال یہ کیا: “عمر! اِس سے پوچھو کہ یہ رات کو کہاں سویا تھا؟” مَیں نے صَاف صَاف بتا دِیا کہ ریلوے اسٹیشن کی اِنتظار گاہ مِیں رات بَسر کی تھی۔

اس کے بعد “میڈم” نے چند سوالات اور کیے اور کہہ دیا کہ یہ تو “ٹورسٹ” ہے۔ اِس کا پڑھنے کا کوئی اِرادہ نہیں ہے اور داخلہ دینے سے اِنکار کی “خوشخبری” سُنا دی۔ عمر بھی اَب اِس سے زیادہ میری مَدد نہیں کرسکتے تھے۔ مُجھے اَب کوئی اور راستہ تلاش کرنا تھا۔ آخِر، کافی غور و فِکر کے بعد مَیں شعبہٴ انگریزی جا پہنچا۔ وہاں کی اِنچارج اِیک خلیق وشفیق خاتون تھیں۔ اُن کو مَیں نے پوری کہانی سُنائی۔ وہ فوراً اپنی نِشست سےاُٹھیں اور مُجھے اپنے ساتھ لے کر شعبےکے ڈائیریکٹر کےپاس لے گئیں (مُجھے تو اپنی اُن مُحسن خاتون کا نام بھی یاد نہیں ہے) ۔ ڈائیریکٹر صاحب کے ساتھ اُن کے طویل مذاکرات ہوئے۔ اس دوران اُن کے کہنے پر مَیں نے اپنے تمام کاغذات، دستاویزات، پاسپورٹ، تعلیمی اَسناد، ویزا برائے سوویت یونین وغیرہ دِکھا دیے۔ اِن تمام مَراحِل کے بعد اُس خاتون نے مُجھے خوشخبری سُنائی کہ نہ صِرف میرا داخلہ ہوگیا ہے بلکہ مُجھے “اَبشی ییتے” یعنی ہاسٹل مِیں کمرہ بھی مِل جائے گاجو اُن دِنوں “نا مُمکِنات” مِیں شامِل تھا۔

تھوڑی ہی دیر بعد ڈائیریکٹر صاحب نے اُن ہی خاتون کو، جو کُچھ دِیر قَبل مُجھے داخلہ دینے سے صاف اِنکار کر چُکی تھیں، اپنے دَفتر مِیں طلب کیا- اُنہیں کُچھ ہدایات دِینے کے بعد مُجھے اُن کے ساتھ “کنٹریکٹ برائے داخلہ” دَستخط کرانے کے لیے بھیج دیا۔ اُس وَقت داخلے کے اِبتدائی اَخراجات کے لیے آٹھ ہزار رُوبلز کی ضرُورت تھی۔ مُجھےڈالرز کو تبدیل کرانے کے لیے اُنہی اَفغان خاتون کے شوہر صَاحب نے مِیری مَدد کی، جو پِچھلے دِن کینٹین مِیں مُجھے چائے پِلا چُکی تھیں اور قصّہ مُختصر یہ کہ مِیرا داخلہ رُوسی زُبان کے شعبے مِیں ہو گیا۔

وہ دِن گُزر گیا —— لیکن اپنے پیچھے اِیک نہیں کئی رَوشن یادیں چھوڑ گیا —— مُجھے اَب تک شعبہٴ انگریزی کی اِنچارج اُس نفیس و خلیق خاتون کے اَلفاظ نہیں بھُولے —— جنھوں نے مِیرا دَاخلہ کروایا تھا۔ انہوں نے میرے شکریے کے جواب مِیں کہا تھا:

“بیٹے! اِسے مِیری طرف سے اِیک ماں کی جانِب سے تُحفہ سمجھو۔”

یقیناً —— اُنہوں نے پَردیس مِیں مُجھے ماوٴں والا تُحفہ دِیا تھا۔

مَیں آج بھی اُن خاتون کو اَپنی ماں تصوّر کرتا ہوں —— اور آج بھی —— وہ نَفیس، شائستہ، پُر وَقار اور پُر محبّت خاتون اپنی تمام عظمت و وقار کے ساتھ میرے دِل مِیں ہیں اور وہ تمام لوگ بھی جو پردیس کے اِس آزمائشوں بھرے سفر مِیں قدم قدم پر میرے شریکِ سَفر رہے۔ اور سب سے بڑھ کر، مَیں اُس ذاتِ لا شریک کا شُکر گزار ہوں جِس نے میرے لیے ہر مُشکل دُور کی اور ہر راستہ کُشادہ کر دیا۔