مجھے تم سے محبت ہے

470

“مجھے تم سے محبّت ہے”

“مجھے تم سے محبّت ہے”
کسی کو اتنا کہنا
یا ——–  کسی سے اتنا سن لینا
کبھی کافی نہیں ہوتا
!محبّت کے لیے اس دور میں بہت کچھ چاہیے جاناں 
اور ——– بنگلہ، کار، اچھّی جاب
ضرورت کی تو چیزیں ہیں
اگر یہ پاس نہ ہوں ——– تو
“مجھے تم سے محبّت ہے”
کا یہ فرسودہ سا جملہ
بہت فرسودہ لگتا ہے
محض اِک دھوکہ لگتا ہے
محبّت ویسے بھی ——– احساس کرنے ——– خیال رکھنے ——– کا نام ہی تو ہے
 اگر تم یہ سمجھتی ہو)
“محبّت اندھی ہوتی ہے”
!تو اتنا جان لو جاناں 
یہ دیوانوں کی باتیں ہیں
(پروانوں کی باتیں ہیں 
ابھی تو ساری یہ چیزیں تمھیں مَیں دے نہیں سکتا
اور ——– میرا کیا ہے مستقبل ؟
ابھی کچھ کہ نہیں سکتا
بَس اتنا جانتا ہوں کہ
ابھی کچھ بننے کی خاطر
سَمے درکار ہے مجھ کو
کہ اپنوں کی مَدد لینے سے بھی اِنکار ہے مجھ کو
!اگر تم لوٹنا چاہو 
!تو اب بھی وقت ہے جاناں 
جو مجھ کو بھولنا چاہو
 !تو اب بھی وقت ہے جاناں
مگر جب زندگی میں پھر
کسی سے پیار کرنا تم
بھلا دینا مجھے ——– لیکن
بَس اِتنا یاد رکھنا تم
“مجھے تم سے محبّت ہے”
کسی کو اتنا کہنا
یا ——– کسی سے اتنا سن لینا
کبھی کافی نہیں ہوتا
محبّت کے لیے اس دور میں
!بہت کچھ چاہیے جاناں 
!بہت کچھ ——– چاہیے ——– جاناں 

SHARE
Previous articleIt is a Crusade
Next articleReviews